مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کے علاقائی اور جوہری مؤقف سے پیچھے ہٹانے اور مشرق وسطی میں تزویراتی توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے مقصد سے جو جنگ شروع کی تھی، وہ مسلسل چھ ماہ گزرنے کے باوجود اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جس کارروائی کو ابتدا میں محدود اور فیصلہ کن فوجی آپریشن قرار دیا جا رہا تھا، وہ اب امریکہ کے لیے ایک ایسے تزویراتی دلدل میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے باعث اس کی عالمی حیثیت، بین الاقوامی ساکھ اور سلامتی کے نظام کی مؤثریت پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
گزشتہ چھ ماہ کے سیاسی اور عسکری حالات نے واضح کر دیا ہے کہ صرف فوجی طاقت اور برتر اسلحے پر انحصار، اگر مؤثر سفارت کاری اور مخالف کے سیاسی عزم کی درست سمجھ کے بغیر ہو، تو وہ کسی بھی عالمی طاقت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ابتدائی حکمت عملی اور میدان جنگ کی حقیقت
جنگ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے اپنی حکمت عملی دو بنیادی اصولوں، یعنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" اور "قریب الوقوع فوجی خطرے" پر استوار کی تھی۔ اس کا مقصد ایک طرف ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور دوسری طرف خطے میں اپنے اتحادیوں کو امریکی طاقت کا یقین دلانا تھا۔ تاہم جنگ توقع سے زیادہ طویل ہونے کے بعد وہ حقائق سامنے آنے لگے جنہیں ابتدائی منصوبہ بندی میں نظر انداز کیا گیا تھا۔ ان میں سب سے نمایاں حقیقت یہ تھی کہ امریکہ ایران کے اسٹریٹجک موقف میں کسی قسم کی تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔
ابتدائی اندازوں کے برعکس ایران نہ صرف معاشی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہا بلکہ مزاحمتی معیشت، علاقائی روابط اور غیر روایتی عسکری صلاحیتوں کے ذریعے اس نے امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے لیے جنگ کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ سمندری اور فضائی میدانوں میں ایران کی غیر روایتی سرگرمیوں نے بھی امریکی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا دیا۔
اسی دوران پینٹاگون کی بعض خفیہ رپورٹس منظرعام پر آئیں جن میں جدید ہتھیاروں اور درست نشانہ بنانے والے گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی کا ذکر کیا گیا، جسے امریکہ کی بیک وقت متعدد محاذوں پر کارروائی کی صلاحیت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا گیا۔
اصل بحران امریکہ کی عالمی ساکھ
اگرچہ جنگ کے مالی اور عسکری اخراجات اہم ہیں، لیکن امریکہ کے لیے سب سے بڑا بحران اس کی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے اعتماد میں کمی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق اکیسویں صدی کی جنگوں میں صرف فوجی طاقت فیصلہ کن عنصر نہیں رہی بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اتحادی اور مخالف ممالک کسی طاقت کے عزم، صلاحیت اور بحرانوں سے نمٹنے کی استعداد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
اسی تناظر میں نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے اتحادی مسلسل جنگ کے باعث گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور یورپی و ایشیائی دارالحکومتوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اب پہلے کی طرح اپنے اتحادیوں کی سلامتی کی مؤثر ضمانت فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگرچہ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، لیکن ایران کے خلاف چھ ماہ کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف عسکری برتری کسی بھی ملک کو اپنے سیاسی اور تزویراتی اہداف حاصل کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
اسی سلسلے میں چیتھم ہاؤس کے سابق سربراہ رابن نیبلٹ نے کہا ہے کہ اس جنگ نے واشنگٹن کے شراکت داروں کو دو واضح پیغامات دیے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ کی فوجی طاقت، اپنی تمام تر برتری کے باوجود، ایران جیسے مضبوط سیاسی عزم رکھنے والے ملک کو جھکانے کے لیے کافی نہیں، جبکہ دوسرا یہ کہ امریکہ کے ساتھ علاقائی تنازعات میں شامل ہونے کی قیمت بعض ممالک کے لیے اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
امریکی اتحادی نظام پر بڑھتے سوالات
اگر واشنگٹن کے اتحادیوں میں یہ تاثر مضبوط ہوگیا کہ امریکہ اب قابل اعتماد سکیورٹی ضامن نہیں رہا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری امریکی خارجہ پالیسی متاثر ہوگی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جس عالمی اتحادی نظام کی بنیاد رکھی، وہ اس یقین پر قائم تھا کہ واشنگٹن اپنے شراکت داروں کے دفاع کے لیے ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرے گا، لیکن ایران کے ساتھ طویل جنگ نے اس بنیادی تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔
اس اعتماد کے بحران کی جھلک مختلف میدانوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ خلیج فارس کے وہ ممالک، جو اپنی بحری اور فضائی سلامتی کے لیے ہمیشہ امریکہ پر انحصار کرتے رہے، اب اس حوالے سے سنجیدہ شکوک کا شکار ہیں۔ پانچویں اور چھٹے امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باوجود آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی بحری راستے پر ایران بدستور فیصلہ کن اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
یورپ میں بدلتی سوچ
یورپی ممالک اور نیٹو کے روایتی اتحادی بھی اس جنگ کے بعد اپنی ترجیحات اور امریکہ پر انحصار کے بارے میں نئی سوچ اختیار کر رہے ہیں۔ چونکہ یورپ ابتدا ہی سے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے حوالے سے سخت پالیسی اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے متفق نہیں تھا، اس لیے موجودہ صورتحال نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
یورپی سفارتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ ایران جیسے طاقتور علاقائی ملک کے خلاف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا تو یوکرین یا مشرقی ایشیا جیسے بڑے بحرانوں میں اس کی سکیورٹی ضمانتوں پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ اسی احساس کے باعث بعض ممالک اپنی سلامتی کے لیے متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔
واشنگٹن کے سامنے مشکل انتخاب
واشنگٹن اس وقت ایک پیچیدہ دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جنگ جاری رکھنے کا مطلب مسلسل بڑھتے ہوئے مالی، عسکری اور سیاسی اخراجات اور ایک طویل جنگ میں الجھنا ہے، جبکہ دوسری طرف واضح کامیابی کے بغیر پسپائی امریکہ کی ڈیٹرنس صلاحیت اور عالمی قیادت کو مزید کمزور کرسکتی ہے۔
ایران کے خلاف جاری جنگ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی اور امریکہ کے عالمی کردار کی تشکیل نو کا ایک اہم مرحلہ بنتی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے اعتماد پر مزید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ